ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل: نیشنل ہائی وے پر ٹول میں اضا فوں سے کیا ہنگاموں میں اضافہ نہیں ہوگا ؟ مقامی لوگوں کی پریشانیوں کا کیسے نکلے گا حل ؟

بھٹکل: نیشنل ہائی وے پر ٹول میں اضا فوں سے کیا ہنگاموں میں اضافہ نہیں ہوگا ؟ مقامی لوگوں کی پریشانیوں کا کیسے نکلے گا حل ؟

Thu, 01 Apr 2021 18:52:52    S.O. News Service

بھٹکل یکم اپریل (ایس او نیوز) نیشنل ہائی وے 66 کا توسیعی کام مکمل کیے بغیرہی ضلع شمالی کینرا  سمیت پڑوسی ضلع اُڈپی  کے شیرور میں آئی آر بی کمپنی کی جانب سے موٹر گاڑیوں سے جو ٹول وصول کیا جا رہا ہے اور مقامی لوگوں کو ٹول سے چھوٹ نہ دینے پر ٹول پلازہ پر آئے دن جو ہنگامے  ہورہے ہیں، اس میں اب مزید اضافہ ہونے کے خدشات  پیدا ہوگئے ہیں۔

    اب تک شمالی کینرا کے ہٹی کیری اور کمٹہ میں واقع ٹول گیٹَ کے ساتھ ساتھ  بھٹکل ۔شیرور بارڈ پر واقع ٹول گیٹ  پر مقامی لوگوں کی گاڑیوں کو رعایت نہ دینے پر کئی مرتبہ ہنگامے، احتجاج اور مار پیٹ کے واقعات پیش آ چکے ہیں، پھر اس کے بعد فاسٹ ٹیگ نہ ہونے پر دوہرا ٹول لیے جانے پر جھگڑے شروع ہوگئے اور اب مرکزی حکومت نے ٹول کی شرح میں جو اضافہ کیا ہے اس سے خاص کرکے مقامی لوگ بہت زیادہ متاثر ہونگے اور اس کی وجہ سے ٹول پلازہ والوں کے ساتھ تکرار اور جھگڑے بڑھنے کے امکانات نظر آرہے ہیں۔

    ٹول گیٹ پر مقامی لوگوں کو چھوٹ دینے کا سلسلہ چلتا بھی ہے تو ایک مسئلہ گاڑیوں کے رجسٹریشن کا ہوتا ہے ، کیونکہ گاڑی کا مالک تو ٹول گیٹ کے آس پاس کا باشندہ ہوتا ہے مگر اس کی گاڑی چونکہ کسی اور شہر یا  ضلع  میں رجسٹرڈ ہوتی ہے اس لئے وہ مقامی گاڑیوں کے زمرے میں نہیں آتا ہے ۔ اور اسی بات پر تکرار شروع ہو جاتی ہے جو مار پیٹ  میں  بھی  بدل جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ لوگوں کے دماغ میں یہ بات بھی بیٹھی ہوئی ہے کہ ٹھیکیدار کمپنی نے پروجیکٹ مکمل کیے بغیر ہی ٹول وصولی شروع کی ہے۔ اس غصہ کی وجہ سے  ایسی وصول بھی ٹول گیٹ پر ہنگامہ آرائی  کا سبب بنتی ہے۔ اکثر اوقات ٹول ناکہ پر تعینات عملہ کا رویہ بھی اشتعال کا سبب ہوجاتا ہے اور لڑائی جھگڑا شروع ہوجاتا ہے۔

    ایسے حالات میں اب ٹول کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے تو مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے  لوگوں میں غصہ ہوگا ہی۔ پھر جب مقامی لوگوں  کو چھوٹ نہ ملنے یا فاسٹ ٹیگ نہ ہونے کی وجہ سے دوہری رقم وصول کیے جائیں گے  تو  ہنگامہ کھڑا ہونا لازمی ہے۔  اب مقامی لوگ سوال کررہے ہیں کہ  ایسے میں اُن کی پریشانیوں  کا حل کیسے نکلے گا ؟


Share: